Arbaeen walk -اربعین واک دنیا کا سب سے بڑا سالانہ اجتماع

اربعین واک دنیا کا سب سے بڑا سالانہ اجتماع
تحریر: سید جواد حسین رضوی

عراق کے شہر کربلا میں صفر کے مہینے میں اربعین حسینی کی مناسبت سے دنیا کا سب سے بڑا سالانہ اجتماع منعقد ہوتا ہے۔ ویکی پیڈیا کی دنیا بھر کے بڑے اجتماعات کی لسٹ میں اربعین کا نمبر ہندوستان میں ہونے والے کمبھ میلے کے بعد آتا ہے۔ کمبھ میلے میں سن 2010 میں آنے والوں کی تعداد چھ کروڑ سے اوپر تھی اور فروری 2019 میں ہونے والے میلے میں پانچ کروڑ افراد موجود تھے۔ جبکہ سن 2018 میں اربعین حسینی کے موقع پر تین کروڑ افراد کربلا پہنچے تھے۔

یہ نکتہ قابل غور ہے کہ کمبھ میلہ سالانہ اجتماع نہیں، بلکہ کچھ برسوں کے وقفے کے بعد منعقد ہوتا ہے، جبکہ اربعین حسینی کے موقع پر کربلا میں ہر سال اجتماع ہوتا ہے لہذا بجا طور پر اربعین حسینی کو دنیا کا سب سے بڑا سالانہ اجتماع قرار دیا جا سکتا ہے۔ امریکی معتبر جریدے فوربز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بھی اربعین کو سب سے بڑا سالانہ اجتماع قرار دیا گیا تھا۔

ہر سال لاکھوں کروڑوں عشاق سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام اور دیگر شہدائے کربلا کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے ماہ صفر میں کربلا کا سفر کرتے ہیں۔ عراق بھر سے مختلف شہروں جیسے بغداد، بصرہ، حلّہ، عمارہ، ناصریہ، دیوانیہ، کوفہ اور نجف سے لوگ پیدل کربلا کی سمت چل پڑتے ہیں۔ ان میں سب سے لمبا راستہ بصرہ اور کربلا کا ہے جو تقریبا 500 کلومیٹر کی مسافت پر ہے جس کو طے کرنے میں کم و بیش پندرہ دن لگتے ہیں۔ کویت سے آنے والے قافلے اور خود بصرہ سمیت جنوبی عراق کے عشاق اس مسافت کو طے کرتے ہیں۔ جبکہ ان مختلف راستوں میں سب سے معروف نجف سے کربلا کے درمیان راستہ ہے جہاں سب سے زیادہ زائرین موجود ہوتے ہیں، یہ راستہ 80 کلومیٹر کی مسافت کا ہے اور اس کو طے کرنے میں کم و بیش تین سے چار دن لگتے ہیں۔ اس راستے کو اکثر بیرون ممالک سے آنے والے زائرین استعمال کرتے ہیں۔

اربعین حسینی کے موقع پر پیادہ روی کا یہ سلسلہ کافی پرانا اور صدیوں پر محیط ہے۔ امام حسین ع کی شہادت کے بعد سے عقیدت مندوں کا پا پیادہ سفر شروع ہو جاتا ہے۔ اس زمانے میں جب گاڑیاں اور دیگر ذرائع نقل و حمل اتنے ترقی یافتہ نہ تھے تو عموما زائرین پیدل یا اونٹوں پر سفر کیا کرتے تھے۔ گاڑیوں کی آمد کے باوجود بھی پیدل چلنے کی رسم عربوں میں رائج رہی، گو کہ اس سلسلے میں کچھ کمی آئی۔

آیت اللہ سید محمد علی قاضی طباطبائی مرحوم، جنہیں ایران میں اوّلین شہید محراب ہونے کا اعزاز حاصل ہے، اپنی کتاب “تحقیق دربارہ اوّل اربعین سید الشہداء” میں لکھتے ہیں کہ یہ روایت معصومین ع کے زمانے سے رائج رہی ہے، عراق کے مختلف شہروں سے لوگ پیدل یا اپنی سواریوں پر کربلا آیا کرتے تھے۔ یہاں بتاتا چلوں کہ ایران میں اسلامی انقلاب کے کچھ رہنماؤں کو انقلاب کی کامیابی کے فورا بعد نماز پڑھاتے ہوئے مساجد میں یا مساجد آتے جاتے ہوئے شہید کیا گیا جن کو شہدائے محراب کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ شیخ انصاری (متوفی 1281 ہجری) کے زمانے میں یہ سلسلہ متروک ہوا لیکن محدث نوری طبرسی (متوفی 1320 ہجری) نے پھر اس سلسلے کا احیاء کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ جب موٹر گاڑیوں اور لاریوں کا رواج ہوا تو رفتہ رفتہ اس میں کمی واقع ہوئی، لیکن نجف کے مشہور مرجع آیت اللہ العظمی سید محمود حسینی شاھرودی، جنہوں نے آیت اللہ سید ابوالحسن اصفہانی مرحوم کے بعد مرجعیت کا بار اٹھایا، نے اس سلسلے کا احیا کیا اور موٹر گاڑیوں کی موجودگی میں نجف سے کربلا پیدل جانے کی روایت ڈالی۔ اس زمانے میں حوزہ علمیہ نجف بہت پر رونق ہوتا تھا، آقائے شاھرودی کی تابعیت میں طلّاب کے درمیان یہ سلسلہ شروع ہوا۔

بعد میں صدام حسین کی بعثی اور نیشنلسٹ حکومت قائم ہوتی ہے تو وہ اس طرح کے اجتماعات کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا ، نجف سے کربلا پیادہ روی کی مخالفت کرتا ہے اور متعدد دفعہ زائرین پر سختی کرتا ہے۔ چنانچہ صدام کے دور حکومت میں اس اجتماع اور پیادہ روی میں کمی آ جاتی ہے۔ لیکن پھر بھی لوگ چھوٹی موٹی تعداد میں اس سلسلے کو جاری رکھتے ہیں۔ پچھلے سال مجھے ایک بزرگ عراقی نے بتایا کہ صدام حسین کے دور میں وہ لوگ دریائے فرات کے کنارے چھپ چھپ کر پیدل چلتے تھے۔ جب صدام حکومت سرنگوں ہو جاتی ہے تو اس پیادہ روی کی روایت میں پھر سے جان پڑتی ہے۔ سن 2005 سے اب تک ہر سال اربعین پر آنے والے زائرین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اربعین واک انتہائی روح پرور ہوتا ہے۔ یہ سفر نجف میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے روضۂ مبارک سے شروع ہوتا ہے اور نجف سے کربلا تک 80 کلومیٹر کا سفر طے کیا جاتا ہے۔ اس پورے راستے میں دس ہزار سات سو موکب زائرین کی خدمت میں موجود ہوتے ہیں۔ عارضی ٹینٹ نما قیام گاہ کو عربی میں “موکب” کہتے ہیں جہاں کھانے کے اوقات میں مفت معیاری کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ ان اعلی اقسام کے کھانوں میں چکن، بیف، مٹن اور مچھلی سب کچھ ہی شامل ہوتا ہے۔ کھانے کے اوقات کے درمیان پورا دن چائے، پانی اور کافی مفت فراہم کی جاتی ہے۔ ان قیام گاہوں میں زائرین آرام کرتے ہیں۔ جبکہ واک بلا توقف جاری رہتی ہے، آپ رات میں سوتے ہیں تو یہ نہ سمجھیں کہ سب سو گئے ہوں گے بلکہ تب بھی ایک تعداد واک کر رہی ہوتی ہے۔

یہ موکب اکثر عراقی قبائل چلاتے ہیں جو نجف اور کربلا کے درمیان قصبوں دیہاتوں میں رہتے ہیں اور اپنے آپ کو زائرین کا خادم سمجھتے ہیں۔ یہ قبائل سارا سال اس مقصد کے لئے پیسے بچاتے ہیں تاکہ محرم و صفر کے مہینوں میں زائرین کی خدمت کر سکیں۔ علاوہ ازیں عراق کے مختلف حصوں سے بھی مخیر حضرات موکب قائم کرتے ہیں۔ پچھلے سال اربعین کے موقع پر میری ملاقات ایک عراقی سے ہوئی جس کا تعلق عراق کے شمالی شہر کرکوک کے ترکمن قبائل سے تھا، یہ عراقی ایک امریکی آئل فرم میں ملازم تھا لیکن اربعین کے دنوں میں چھٹی لے کر اپنے خاندان والوں کے ساتھ زائرین کی خدمت کرنے حاضر ہوتا تھا۔

عراقیوں کے بعد ان موکب میں ایک بڑی تعداد ایرانیوں کی ہے، جبکہ بہت سے پاکستانی و ہندوستانی موکب بھی ہیں جہاں دیسی کھانے اور دودھ والی دیسی چائے چوبیس گھنٹے دستیاب ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں دیگر ممالک جیسے ترکی، لبنان، سعودی عرب، افغانستان، کویت، بحرین اور آذربائجان سے آنے والے عقیدت مندوں کے بھی موکب ہیں۔ جگہ جگہ عراقی آپ کو عربی میں خوش آمدید کہتے اور خدمت پر اصرار کرتے نظر آتے ہیں۔ ان مواکب کے علاوہ آس پاس قصبوں اور دیہاتوں میں رہنے والے لوگ زائرین کو اصرار کے ساتھ اپنے گھر لے جاتے ہیں تاکہ قیام و طعام کی صورت میں ان کی خدمت کر سکیں۔ جس کے پاس کچھ نہیں ہوتا تو وہ تازہ کھجوروں کے طشت لے کر راستے میں کھڑا ہو جاتا ہے یا ہاتھ میں عطر لئے زائرین کو خوشبو لگاتا ہے۔ کئی جگہوں پر زائرین کے جوتے صاف کرنے کے لئے کپڑا یا برش لئے کھڑے ہوتے ہیں اور بہت جگہوں پر اصرار کے ساتھ آپ کے جوتے صاف کریں گے۔ زائرین کی خدمت کو عراقی اپنے لئے بہت بڑی سعادت سمجھتے ہیں۔ بلاشبہ عراقیوں کا یہ جذبہ دیدنی ہوتا ہے اور بسا اوقات آنکھ اشکبار ہو جاتی ہے کہ کس طرح بلا امتیاز رنگ و نسل و مذہب یہ لوگ زائرین کی خدمت کرتے ہیں۔

اس واک میں عراق کے شیعہ مسلمانوں کے شانہ بشانہ سنّی مسلمان بھی شرکت کرتے ہیں، اور کئی مواقع پر مسیحی اور دیگر ادیان سے تعلق رکھنے والے بھی نظر آتے ہیں۔ زائرین کی یہ خدمت ماہ صفر کی ابتدا سے لے کر آخر تک جاری رہتی ہے۔ اس دوران آپ کو ضرورت کی ہر وہ چیز مفت فراہم کی جاتی ہے جس کا آپ تصوّر کریں۔ جگہ جگہ موبائل کلینک موجود ہیں جہاں دنیا بھر کے ڈاکٹر رضاکارانہ طور پر زائرین کو مفت سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔ بعض جگہوں پر ڈینٹل کلینک اور آنکھوں کے ڈاکٹر بھی موجود ہیں جو بلا امتیاز سب کا علاج کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ صرف نجف تا کربلا نہیں ہے، بلکہ کربلا آنے والی ہر شاہراہ پر یہ موکب موجود ہیں۔ جو لوگ بصرہ سے چلتے ہیں اور پانچ سو کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہیں ان کے لئے بھی جا بجا عراقی قبائل کی طرف سے موکب موجود ہیں۔

عراقی سرکاری ذرائع کے مطابق سن 2015 میں سترہ ملین زائرین اربعین کے موقع پر کربلا میں تھے، یہ تعداد سن 2016 میں بڑھ کر بائیس ملین ہو گئی تھی۔ یاد رہے کہ یہ تعداد ان لوگوں کی ہے جو ماہ صفر میں مختلف تاریخوں میں کربلا داخل ہوتے رہے۔ ان زائرین میں عراقیوں کے بعد سب سے بڑی تعداد ایرانی زائرین کی ہوتی ہے۔ ایرانی و عراقی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق پچھلے سال تقریبا بیس لاکھ ایرانیوں نے اربعین واک میں شرکت کی۔ ایرانیوں کے علاوہ ترکی، شام، لبنان، آذربائجان، روس، سعودی عرب، کویت، بحرین، عمان، قطر، متحدہ عرب امارات، افغانستان، پاکستان، بھارت، یمن، نائجیریا و دیگر افریقی ممالک، چین، تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور یورپ و امریکا و کینیڈا سے بھی لاکھوں زائرین اربعین واک میں شرکت کرتے ہیں۔

اسلام آباد میں واقع عراقی سفارتخانے کے مطابق پچھلے سال تقریبا چھیاسی ہزار پاکستانیوں کو اربعین کے موقع پر ویزا جاری کئے گئے۔ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد زمینی سفر کو ترجیح دیتی ہے کیونکہ اکثریت ہوائی سفر کے خرچے برداشت نہیں کر سکتی۔ اس مقصد کے لئے کاروان اور قافلے بسوں کو بک کرتے ہیں جو پاکستان سے عراق اور پھر واپس زائرین کو لے آتی ہیں۔ سب سے پہلے یہ کاروان کوئٹہ میں پڑاؤ ڈالتے ہیں جہاں سے ان کو ایران کے بارڈر تفتان لے جایا جاتا ہے۔ کچھ برس قبل زائرین کی بسوں پر ہونے والے حملوں کے بعد ان کی حفاظت کے پیش نظر سیکیورٹی کے حصار میں زائرین کو کانوائے کی شکل میں بارڈر تک پہنچایا جاتا ہے۔ زائرین تفتان بارڈر سے ایران میں داخل ہوتے ہیں اور تقریبا 2300 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے عراق کے بارڈر شلمچہ پہنچتے ہیں۔ راستے میں ایران کے متعدد شہروں جیسے میر جاوہ، زاہدان، مشہد، نرماشیر، بم، ماہان، کرمان، یزد، نائین اور قم میں زائرین کی خدمت کے لئے موکب ہوتے ہیں۔ ان مواکب میں زائرین آرام کرتے ہیں اور مقامی لوگوں کی طرف سے قیام و طعام کا بندوبست ہوتا ہے۔ کئی جگہوں پر مکینک بھی دستیاب ہوتے ہیں جو رضاکارانہ طور پر زائرین کی بسوں کو چیک کرتے ہیں اور کوئی خرابی پائیں تو ٹھیک کر دیتے ہیں۔ اسی طرح افغانستان اور آذربائجان سے بھی زائرین روڈ کا سفر طے کر کے ایران کے ذریعے عراق پہنچتے ہیں

کوئٹہ سے نجف تک یہ راستہ کئی دنوں پر محیط ہوتا ہے اور اتنے لمبے سفر پر بچے، بوڑھے اور خواتین صبر و تحمل کے ساتھ سفر کرتے ہیں، اور پھر اسی راستے کو عبور کر کے واپس اپنے شہروں میں پہنچتے ہیں۔ ۔ امسال پاکستان میں مخیر حضرات کی طرف سے بھی سندھ کے کچھ شہروں، کوئٹہ اور تفتان بارڈر پر خاطر خواہ انتظامات نظر آ رہے ہیں، موکب کا یہ کلچر اب سرحد کے اس طرف بھی موجود ہے۔

اس سال پاکستانی زائرین کو ویزے کے حصول میں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستانیوں کے لئے ویزا شرائط سخت کر دی گئیں جس کے تحت پاکستانیوں کو عراق سے اپروول کے بعد ہی ویزا جاری ہو سکتا تھا۔ اس کی وجوہات بظاہر یہ نظر آتی ہیں کہ زائرین کے ساتھ بھکاریوں کی ایک تعداد بھی عراق روانہ ہوتی ہے، ان ایام میں مختلف جگہوں پر پاکستانی بھکاری بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ کچھ لوگ عراق میں غیر قانونی طور پر مقیم رہ جاتے ہیں، چونکہ عراق ترقی کر رہا ہے اور اس لحاظ سے افرادی قوّت نہیں لہذا سستی لیبر پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک سے دستیاب ہوتی ہے۔ سیکیورٹی کے لحاظ سے عراق داعش جیسی عفریت سے چھٹکارہ پا کر ترقی کی طرف گامزن ہے، چنانچہ وہ سیکیورٹی پر کسی قسم کا رسک نہیں لینا چاہتے۔ لیکن حکومت پاکستان کی بروقت مداخلت سے پاکستانیوں کو عام ویزا پھر سے جاری ہونے لگے ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ ایسے افراد کی حوصلہ شکنی کرے جو ملک سے باہر پاکستان کا وقار مجروح کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ اربعین حسینی کے موقع پر جہاں کروڑوں لوگ کربلائے معلّی کا رخ کرتے ہیں، پاکستانی حکومت کی جانب سے کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لئے کیمپس اور موکب بنائے جا ئیں تاکہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے متعلق دنیا کو باخبر کیا جا سکے۔ نیز پاکستان کی طرف زائرین کی سہولت کے لئے بہتر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ زائرین کا یہ سفر آسودگی سے شروع ہو اور آسودگی کے ساتھ اختتام پذیر ہو۔

About RizwanAli

www.shiasky.com

Check Also

Arbaeen Each step for the pilgrimage of Imam Hussain leads to 1000 awards and wipes out 1000 sins

Arbaeen Each step for the pilgrimage of Imam Hussain leads to 1000 awards and wipes …

Leave a Reply