Sham e Ghareeban ڈراؤنا جنگل ہے, رات اندھیری

Spread the love

ڈراؤنا جنگل ہے, رات اندھیری

ستارے کچھ جھلملا رہـے ہیں

پڑے ہـیں ریت پہ چند لاشے

وہ اپنا غم آپ اٹھا رہـے ہـیں

شکستہ ہتھیار کچھ پڑے ہیں

یہ لوگ شاید یہاں لڑے ہیں

لڑے تو وہ ہونگے جو بڑے ہیں

نظر تو بچے بھی آ رہے ہیں

حرم پہ کیاگزری بعد ان کے

نہیں ضرورت کہ کوئی پوچھے

جلے ہوئے جو پڑے ہیں خیمے

وہ حال سارا بتا رہے ہیں

پڑے ہیں مقتل میں جـتـنے لاشے, کسی بھی لاشے کا سر نہیں ہے

سر ان کے کاٹے ستمـگروں نے

وہ سر حرم کو دکھا رہـے ہـیں

Author: shiasky_bzcr4h

Leave a Reply