Pisar ki lash Khaimo main Kaise Lahein Hussain (as)

Spread the love

پسر کی لاش کو خیمے میں کیسے لائے حسین

یہ سوچتا ہوں تو کہتا ہوں “ہائے ہائے حسین”

میرے حسین نے جب سے مدینہ چھوڑا ہے

کسی نے دیکھا نہیں ہے کہ مسکرائے حسین

چراغ بجھ کے جلا ہے تو یہ ہوا ثابت

وہ چھوڑ کر نہیں جاتا جسے بلائے حسین

سخی کے آخری “ھل من” کا بس یہ مقصد تھا

کسی نے آگ سے بچنا ہے توبچائے حسین

وہاں سے عالیہ کرتی ہے ابتدا اپنی

وہ جس مقام پہ ہوتی ہے انتہائے حسین

زمیں پہ “سدرہ” ہے مدفن علی کی بیٹی کا

زمیں کا “عرش معلی” ہے کربلائے حسین

میں دیکھ سکتا ہوں تجھ کو نظر نہیں آتا

دکھائ دیتا ہے اس کو جسے دکھائے حسین

Author: shiasky_bzcr4h

Leave a Reply