شہداۓ کربلا کی تدفین

Spread the love

شہداۓ کربلا کی تدفین😭

تیرہ محرم 61 ہجری کو بنی اسد کی خواتین دریائے فرات سے پانی لینے آئيں تو انھوں نے زمین پر بہت سے لاشے بکھرے ہوئے دیکھے کہ جن کے جسموں سے تازہ خون بہہ ایسے رہا تھا کہ گویا انھیں آج ہی شہید کیا گیا ہے، خواتین یہ منظر دیکھ کر روتی ہوئيں واپس اپنے قبیلے والوں کے پاس گئيں اور ان سے کہا: تم یہاں اپنے گھروں میں بیٹھے ہو اور رسول خدا(ص) کے بیٹے امام حسین(ع) اور اس کے اہل و عیال اور ساتھیوں کو ریت پہ قربانی کے جانوروں کی طرح ذبح کر دیا گیا ہے، جب تم رسول خدا(ص)، امیرالمومنین(ع) اور حضرت فاطمہ(ع) کی بارگاہ میں حاضر ہو گے تو ان کے سامنے کیا عذر پیش کرو گے؟ اگرچہ تم نے امام حسین(ع) کی مدد ونصرت کا موقع کھو دیا ہے لیکن ابھی اٹھو اور جا کر ان پاک وپاکیزہ لاشوں کو دفن کرو، اگر تم نے ان کو دفن نہ کیا تو ہم خواتین خود جا کر ان کے دفن کے کام کو سرانجام دیں گی، اس کے بعد بنی اسد کے مرد ان پاک طاہر لاشوں کو دفن کرنے کے لیے آ گئے لیکن ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ کون سا لاشہ کس کا ہے؟

یہ لوگ اسی شش و پنج میں کھڑے تھے کہ ان کے پاس ایک گھوڑا سوار نمودار ہوا کہ جو روتے ہوئے انھیں کہہ رہا تھا میں تمہاری ان لاشوں کے بارے میں رہنمائی کرتا ہوں، اس کے بعد وہ اپنے گھوڑے سے اترے اور مقتولین کے پاس سے گزر کر اپنے بابا امام حسین(ع) کے لاشہ کے پاس جا کر رک گئے پھر بیٹھ کر لاشہ کو گلے لگا لیا اور اونچی آواز میں رونا اور لاشہ کے بوسے لینے شروع کر دیا اور فرمایا: اے میرے بابا آپ کے بعد ہمارا کرب و الم بہت لمبا ہو گیا ہے۔۔۔ اے بابا آپ کے بعد ہمارا حزن وغم بہت طولانی ہو گیا ہے۔۔۔ پھر امام زین العابدین(ع) اپنے بابا کی قبر والی جگہ آئے اور وہاں سے تھوڑی سی مٹی اٹھائی تو پہلے سے ایک بنی بنائی قبر ظاہر ہو گئی، اس کے بعد امام زین العابدین(ع) نے اپنے بابا کے لاشہ کو تنہا ہی قبر میں رکھ دیا
اس کے بعد امام زین العابدین(ع) جس طرح بااعجاز امامت کوفہ سے کربلا آئے تھے اسی طرح واپس چلے گئے اور اسیرانِ کربلا کے ساتھ مل گئے۔ میر ببر علی انیس کہتے ہیں

جب دفن ہوا شیرِ خدا کا جانی
سجادؑ نے کی قبر پر آب فشانی
شبیرؑ کی پیاس کا کہوں میں کیا اثر
پیتی گئ خاک جتنا چھڑکا پانی

Author: shiasky_bzcr4h

Leave a Reply