داخــلہ کربــلا کے بعــد پہلی گھــڑیاں

Spread the love

” داخــلہ کربــلا کے بعــد پہلی گھــڑیاں ”

امام حسین علیہ السلام نے گھوڑے سے اتر کر یہ شعر پڑھے :

اے دنیا ! تیری دوستی پر صد افسوس ، تیرا کیا اتار چڑھاؤ ہے ، کتنے ہی طالبان _حق ماردیے جاتے ہیں لیکن پھر بھی زمانہ اپنے تغیر کو نہیں چھوڑتا – ہر زندہ ( شخص ) اپنے سفر پر رواں دواں ہے – کوچ کا وعدہ کتنا جلد آنے والا ہے – یہ تمام امور خداۓ جلیل کے قبضہ قدرت میں ہیں – میرا خدا ہر عیب سے پاک ہے اور بے مثل ہے –

حضرت امام سجــاد علیہ السلام فرماتے ہیں :
امام علیہ السلام نے یہ شعر اتنی مرتبہ دہراۓ کہ مجھے حفظ ہو گئے – جب احساس _حقارت و نفرت سے میرا دم گھٹنے لگا تو میں خاموش ہو گیا – جب میری پھوپھی زینب سلام الله علیھا نے یہ اشعار سنے تو رونے لگیں اور نہایت غم و رنج کا اظہار فرمایا اور اپنی چادر سنبھالتے ہوۓ امام حسین علیہ السلام کے پاس تشریف لائیں اور عرض کرنے لگیں :

اے میرے بھائی ! اے میری آنکھوں کے نور مجھے موت آ جاۓ – اے تمام ماسلف ( انبیاء و اوصیاء ) کے جانشین اور اے ہم زندہ بچ رہنے والوں کی پناہ –

اے کاش میں فوت ہو گئی ہوتی اور آج کا دن نہ دیکھتی – میں نے نانا کی وفات کا دکھہ دیکھا – بابا علی کی پیشانی دیکھی – ماں زہرا کا زخمی پہلو پہ ہاتھہ رکھا دیکھا ، بھائی حسن کے جنازے پر تیر بھی دیکھے — لیکن میں صبر کرتی رہی کیونکہ حسین زندہ تھے – لیکن آج وہ دن ہے کہ حسین مجھے اپنی شہادت کی خبر دے رہے ہیں – افسوس ہے اس دنیا فانی پر ، بی بی دکھہ بھرے بین کرتی تھیں اور تمام حسینی کارواں کی عورتیں روتی تھیں –

٢ محرم الحرام کو حسین علیہ السلام کے سامنے تمام بیبیاں جی بھر کے رو رہیں تھیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ امام حسین علیہ السلام کے بعد ہمیں رونے بھی کسی نے نہیں دینا –

{ مدینــہ سے مدینــہ تک، صفحــہ_١٨٩/١٩٠ }

Author: shiasky_bzcr4h

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *